اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 172 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 172

172 یار خود آ گیا قریب مرے دیکھتے رہ گئے رقیب مرے چاہتا ہوں ، پکارتا ہوں تجھے بولتے کیوں نہیں مجیب مرے! ابھی دل کے صنم نہیں ٹوٹے بت شکن ، کاسر صلیب مر۔تم تو آؤ سرورِ جاں بن کر آگے قسمت مری، نصیب مرے چادر عفو میں چھپا لیے اور آ جائیے قریب مرے تیرے محبوب کا غلام ہوں میں زہے قسمت مری ، نصیب مرے ”موت کیا زندگی نہیں ہوتی کیوں پریشان ہیں طبیب مرے کچھ تو مضمون بھی نرالا ہے کچھ ہیں عنوان بھی عجیب مرے نام بدنام ان کے فیض سے ہے میرے احباب ہیں نقیب مرے ذکر ہو گا مری وفاؤں کا زخم بولیں گے عنقریب مرے ٹوٹ کر بھی ابھی نہیں ٹوٹے بت نرالے ، صنم عجیب مرے رات جب فاصلے بڑھے مضطر! شمع اور آ گئی قریب مرے