اشکوں کے چراغ — Page 166
166 اب کوئی حادثہ نہیں ہو گا سنبھل کیا ہے بہت دل سرحدوں میں سما نہیں سکتا نظارہ پکھل گیا ہے بہت اس نے جب سے مکان بدلا ہے اس کا لہجہ بدل گیا ہے بہت خواہشوں کی پھوار میں کوئی چلتے چلتے پھل گیا ہے بہت اس کی شاخیں تراش دو مضطر ! یہ شجر پھول پھل گیا ہے بہت