اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xx of 679

اشکوں کے چراغ — Page xx

۱۷ لوح دیباچه کتاب سخن ۱۹۹۱ء کے جلسہ سالانہ انگلستان کے دن تھے۔میرے محبوب اور مخدوم امام و آقا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی علی الصبح سیر پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔عاجز کو بھی چند مرتبہ شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی۔اس دوران عاجز غلام سے ارشاد فرماتے کہ اپنے اشعار سناؤں۔نیز فرمایا یہ سب اشعار مجھے لکھ کر دے جاؤ اور باقی اکٹھے کرو اور مجھے بھجواؤ میں خود چھپواؤں گا۔حضور رحمہ اللہ کی بے پایاں شفقتوں کا ذکر کرنے لگوں تو بات لمبی ہو جائے گی۔خلاصہ کلام یہ کہ میں نے کچھ دوستوں عزیزوں کی مدد سے بچا کھچا رطب و یابس اکٹھا کیا۔پھر یوں ہوا کہ مشکل کے بعد مشکلیں آتی چلی گئیں یہ امتحاں کا دور بہت مختصر نہ تھا افسوس کہ حضور انور رحمہ اللہ کی زندگی میں یہ مجموعہ چھپ نہ سکا۔الحمد للہ کہ اب یہ اُس کے فضل اور رحم کے ساتھ قدرت ثانیہ کے پانچویں مقدس مظہر حضرت مرزا مسرور احمد ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے عہد سعادت مہد میں چھپ کر آپ کی خدمت میں پیش ہے۔سکول اور کالج کے زمانے کے اساتذہ کرام اور دوست احباب یاد آ رہے ہیں جن کی وجہ سے طبیعت شعر گوئی کی طرف مائل ہوئی۔پرائمری کی تیسری جماعت تھی۔مرحوم ماسٹر عبدالمجید صاحب فارسی پڑھاتے اور اپنے فارسی اشعار سنایا کرتے تھے۔ہائی سکول میں مرحوم سید رضا حیدر زیدی لکھنوی کی شفقتوں سے حصہ ملا اور انھی کی وجہ سے فسانہ آزاد کی چاروں جلد میں پڑھ ڈالیں۔کچھ مجھ میں آیا کچھ نہ آیا، لیکن اُردو زبان سے ایک