اشکوں کے چراغ — Page 143
143 شب ہائے بے چراغ کی کوئی سحر بھی ہو لمحہ فراق! کبھی مختصر بھی ہو کس طرح سے کٹے گی یہ کالی پہاڑ رات کوئی تو اس سفر میں ترا ہمسفر بھی ہو اس کو سر صفات پکارا لازم کرو، مگر نہیں کہ مرحلہ شوق سر بھی ہو وہ رنگ ہے تو اس کا بھی کوئی لباس ہو خوشبو ہے وہ اگر تو کوئی اس کا گھر بھی ہو اتنا تو ہو کہ اس کی ملاقات کے لیے سینہ بھی ہو دُھلا ہوا اور آنکھ تر بھی ہو وہ چاہتا ہے جب مرے خط کا جواب دے میں بھی ہوں اور ساتھ مرا نامہ بر بھی ہو بیٹھے ہیں انتظار میں چہروں کے چوک میں شاید کہ دل کا حادثہ بار دگر بھی ہو