اشکوں کے چراغ — Page 131
131 نذر غالب۔بصد ادب اور معذرت میں خطا کار بھی تھا، لائق تعزیر بھی تھا تو وہ سورج جو زمینوں سے بغلگیر بھی تھا دُور سے برف کے تودے کی طرح یخ بستہ پاس سے جلتی ہوئی آگ کی تصویر بھی تھا اے نہ بھولے سے کبھی خواب میں آنے والے! تو مرا خواب بھی تھا ، خواب کی تعبیر بھی تھا تھے گلوگیر نہ تنہا غم جاں کے بندھن گیسوئے یار ترا حلقہ زنجیر بھی تھا طائر سدره نشیں بر سر شاخ الهام رات کے پچھلے پہر مائل تقریر مائل تقریر بھی تھا نیلگوں نتھرے ہوئے گہرے سمندر کی طرح جتنا شفاف تھا وہ اتنا ہی گھمبیر بھی تھا