اشکوں کے چراغ — Page 132
132 عشق میں اس کے ملوث تھے سبھی چھوٹے بڑے ہر کف دست ماجرا تحریر بھی تھا اس کے سو چہرے تھے، ہر چہرے کے لاکھوں منظر ایک ہی وقت میں وہ رانجھا بھی تھا ، ہیر بھی تھا کرسیاں کتنی ہی خالی تھیں سر بزمِ " بزم سخن یوں تو غالب بھی تھا ، اقبال بھی تھا ، میر بھی تھا یوں تو ہونے کو وہ خاموش تھا لیکن مضطر! خوش بھی تھا، تیرے چلے جانے سے دیگر بھی تھا