اشکوں کے چراغ — Page 118
118 استے گم ہیں، منزلیں مفقود ایک دھوکا ہے شورِ ہست و بود عکس باہم ہیں شاہد و مشہور کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود ” جب پھر یہ ہنگامہ اے خدا! کیا ہے“ پاس اعمال ہیں نہ پیسے ہیں پھر بھی مخمور غم کی مے سے ہیں مجھتے ہیں ہم تو جیسے ہیں پری چہرہ لوگ کیسے ہیں عشوہ و ادا کیا ادا کیا ہے و اس کے لب پر نہیں نہیں کیوں ہے دل میں ہے درد اور یہیں کیوں ہے ہر حسیں اس قدر حسین کیوں ہے شکن زلف عنبریں کیوں ہے 66 نگه چشم سرمہ سا کیا ہے خواہشوں نے پرے جمائے ہیں دور تک حسرتوں کے سائے ہیں ہم نے بت تو خود بنائے ہیں سبزه و گل کہاں سے آئے ہیں ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے“