اشکوں کے چراغ — Page 87
87 بنامِ شامِ غریباں بفیض کرب و بلا اجڑ اجڑ گئے رخسار، ڈھل گئے کاجل یہ کس کے سامنے دشت نجف ہے شرمندہ شہید ملنے گئے ہیں کسے سر مقتل نقاب رخ سے اٹھائے ، مجال کس کی ہے خرد ہے سربگریبان ، عشق خوار و خجل یہی تو ہے کہ جو قوسین کا ہے وتر جمیل سجا ہوا ہے جو کاندھے پہ نور کا کمبل قریب رہ کے بھی محفل میں بار پا نہ سکا مرے حبیب! مقدر کے فیصلے ہیں اٹل یہ داغ کیسے ہیں دامن پر خون کس کا ہے یہ کس کے قتل سے کس کا ضمیر ہے بوجھل پھرا کریں ہیں بگولے تلاش میں کس کی رہا کریں ہیں یہ کس کے فراق میں بے کل یہ کس کا ذکر ہوا آرزو کے آنگن میں یہ کس کی زلف کی خوشبو میں بس گئی ہے غزل بلا رہا ہے نہ جانے کسے اشاروں سے سے دور لب دل حسین اک چنچل نظر۔سکھی ری کرشن مراری دوارکا سے چلے چناب پار سرِ شام بس گئے گو کل