اشکوں کے چراغ — Page 58
58 زخموں کے کواڑ بند کر لیں اتنی بھی سکت نہیں بدن میں مطرب سے کہو غزل سنائے تلخی ہے نہ کیف ہے سخن میں ہم بھی کبھی فاتحانہ مضطر ! جائیں گے دیارِ برہمن میں (سقوط ڈھاکہ)
by Other Authors
58 زخموں کے کواڑ بند کر لیں اتنی بھی سکت نہیں بدن میں مطرب سے کہو غزل سنائے تلخی ہے نہ کیف ہے سخن میں ہم بھی کبھی فاتحانہ مضطر ! جائیں گے دیارِ برہمن میں (سقوط ڈھاکہ)