اشکوں کے چراغ — Page 50
50 50 میں ہی تو نہیں تھا اپنے ہمراہ تو بھی مرے ساتھ چل رہا تھا آیا تھا میں آئنوں سے مل کر زخمی تھا مگر سنبھل رہا تھا دل تھا کہ اسے قریب پا بچوں کی طرح مچل رہا تھا رونا تو وہ چاہتا تھا لیکن آنسو ہی نہیں نکل رہا تھا سردی تھی کہ بڑھ رہی تھی مضطر ! سورج تھا کہ پھر بھی ڈھل رہا تھا