اشکوں کے چراغ — Page 43
43 color دل دیا ہے تو اب اتنا کر دے اس کو کچھ اور کشادہ کر دے بھر نہ جائے کہیں سہلانے سے کو اور بھی گہرا کر دے کہیں ایسا نہ ہو میرا سایہ تیری تصویر کو دھندلا کر دے پھر پس پرده گرد ایام کوئی لمحہ نہ اشارہ کر دے میں ہوں شرمندہ خواب غفلت مر چکا ہوں، مجھے زندہ کر دے بھول جائے نہ مرا نام مجھے اس کو الزام پر کندہ کر دے فرطِ حیرت سے کہیں آئینہ تیری صورت کو نہ سجدہ کر دے