اشکوں کے چراغ — Page 38
38 38 اپنے اندر کی بھی سیاحت کر کبھی اپنی طرف بھی ہجرت کر اپنے اندر کے آدمی سے میل اس ملاقات کی بھی صورت کر بوریت کچھ تو دُور ہو جائے میرے دشمن! کوئی شرارت کر دل میں محسوس کر اسے ، لیکن دیکھنے کی کبھی نہ جرأت کر منطق الطير بخشنے والے! پر پرواز بھی عنایت کر بول اے معترض ! خموش ہے کیوں کوئی خودساختہ روایت کر ہر کسی کو نظر نہ آیا کرے اپنی تصویر کو نصیحت کر موت کے بعد بھی نہ بھول ہمیں قبر میں بھی نہ استراحت کر اپنی صورت سے باخبر بھی رہ آئنہ دیکھنے کی عادت کر تیرا مسلک اگر محبت ہے اپنے دشمن سے بھی محبت کر عشق میں مصلحت نہیں ہوتی عشق کر اور بے ضرورت کر جا رہا ہوں سفیر دل بن کر مجھ کو عزت کے ساتھ رخصت کر اشک در اشک روح کو بھی کھنگال اُٹھ کے راتوں کو غسل صحت کر بخش دے تو مجھے بغیر حساب میں نہیں کہہ رہا رعایت کر عقل کے ہاتھوں تنگ ہے مضطر دل ناداں! کوئی حماقت کر