اشکوں کے چراغ — Page 39
39 تلاش منزل سراب ریگ رواں کے سینے پر یہی نشاں ہیں چند ٹوٹے ہوئے سفینے کہ جن کے بل پر ضمیر کی الجھنوں کی رت میں دلوں کے آذر جہاں پر روکا تھا چاندنی نے نظر کے زرگر نظر کے دامن کی آڑ لے کر ازل کے بے کار سکوتِ صحرا میں چھپ گئے ہیں غم کے فن کار صداؤں کے ساز پر کسی نے فرط غم سے ہزار لفظوں کے بند باندھے فنا کے مندر میں ڈھلک گئے ریتلے کنارے ریت کے بت بنا رہے ہیں چھلک گئے غم کے آبگینے سرکتے، کروٹ بدلتے نہ بت بنے ہیں نہ بت پرستی صحرا کے رخ پر صنم تراشی سے رک سکے پھیلی ہوئی لکیریں بت بنانے والے زمیں کے ماتھے پر چھڑیاں ہیں ہزاروں رہزن کہ ذہن ماضی ضمیر صحرا پہ کروڑوں راہی تلاش منزل میں وقت کے پاؤں کے نشاں ہیں بت کدوں کے کواڑوں کو