اشکوں کے چراغ — Page 33
color 3 33 اندھیرا روشنی سے ڈر رہا ہے مگر سورج کا چرچا کر رہا ہے تمھارے نام کا تھا ذ کر جس میں وہ مضموں سب سے بالا تر رہا ہے تھاذ مبارک ہو ہمیں الفت کا الزام یہ سہرا بھی ہمارے سر رہا ہے صدی کے سر پہ جو ابھرا ہے ڈھل کر وہ چہرہ آنسوؤں سے تر رہا ہے وہی زندہ رہے گا در حقیقت جو لمحہ مسکرا کر مر رہا ہے دل ناداں کو بھی اب قتل کر دو یہی اک شہر میں کافر رہا ہے عدو جو بن رہا ہے آج اپنا یہ کل تک غیر کا دلبر رہا ہے علی المرتضیٰ کے شہسوارو! وہ دیکھو سامنے خیبر رہا ہے چھلک جائے گا وقت آنے پہ مضطر ! یہ برتن قطرہ قطرہ بھر رہا ہے