اشکوں کے چراغ — Page 34
34 =4 زمیں کا زخم بھی اب بھر رہا ہے نہ دتی ہے، نہ امرتسر رہا ہے رہا ہے تو ہمارے قتل کے بعد ہمارا ذکر ہی اکثر رہا ہے یہ کمرہ جس سے خوشبو آ رہی ہے ہمارے یار کا دفتر رہا ہے صداقت سامنے عریاں کھڑی ہے وہ آئینے سے جھگڑا کر رہا ہے پگھلنے کی اسے فرصت نہیں ہے یہ نظھر عمر بھر پتھر رہا ہے اسے چالاکیاں آتی نہیں ہیں وہ اکثر شہر سے باہر رہا ہے وہ پیاسوں کی اذیت کا ہے محرم وہ صحراؤں سے ہم بستر رہا ہے اسے معلوم ہے رڈی کا بھاؤ وہ اخباروں کا سوداگر رہا ہے کسی کو اب شکایت ہے نہ شکوہ ہم اپنے گھر، وہ اپنے گھر رہا ہے یہ آنسو جس کو آنسو کہہ رہے ہو یہی تو آنکھ کا زیور رہا ہے محبت ہو گئی ہے تجھ سے مضطر ! تو کس محبوب کا نوکر رہا ہے