اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 23 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 23

23 23 چراغ دشت کی لو ہل گئی ہے سواری دل کی بے منزل گئی بڑی بے کیف تھی ہے شام غریباں تم آئے ہو تو جیسے کھل گئی ہے جو اٹھی ہے کبھی مجبور ہو کر صداؤں میں صدا گھل مل گئی ہے تری محفل میں میری نگہ گستاخ جھگڑ نے آئی تھی قائل گئی ہے اسے اس کی شہنشاہی مبارک مجھے میری فقیری مل گئی ہے کوئی ڈوبا نہ ہو دریا میں مضطر! بڑی خلقت سوئے ساحل گئی (۱۹۵۴ء)