اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 19 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 19

19 چاند نگر کے چشمے خون اگلتے ہیں دریا سوکھ گئے ہیں، ساحل جلتے ہیں جھیلوں کے پردیسی بھیگی راتوں میں رک رک کر رٹے کے پلوں پر چلتے ہیں بارش ہو تو دھو لیتے ہیں چہروں کو دھوپ کھلے تو بھوک کا غازہ ملتے ہیں جاگنے والے! اشکوں کی آواز نہ سن آنکھ کے سورج ڈھلتے ڈھلتے ڈھلتے ہیں یاروں نے تو کب کا ملنا چھوڑ دیا دشمن ہفتے عشرے آن نکلتے ہیں جا رہنے کو شہر بھی ہیں، ویرانے بھی ان کی گلی میں جاؤ تو ہم بھی چلتے ہیں دل کے ہاتھوں کس نے سکھ کا سانس لیا دوست پریشاں حال ہیں، دشمن جلتے ہیں ہم سیلانی، تم مالک ہو شہروں کے عیش کرو ، آرام کرو۔ہم اپنے بیگانے حیران ہیں مدت سے حضرتِ مضطر گرتے ہیں نہ سنبھلتے ہیں (۱۹۵۵ء) چلتے ہیں