اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 603 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 603

603 جہاں پر قادیاں رکھا ہوا وز میں پر آسماں رکھا ہوا ہے کہیں کون و مکاں رکھتے ہوئے ہیں کہیں پر لا مکاں رکھا ہوا ہے محبت کا اطاعت کا، وفا کا سروں پر سائباں رکھا ہوا ہے بہت آسان ہے ان سے ملاقات مگر اک امتحاں رکھا ہوا ہے وہ دل کو مسکرا کر لے گئے تھے خدا جانے کہاں رکھا ہوا ہے کروڑوں چاہنے والے ہیں اس کے مگر اک بدگماں رکھا ہوا ہے تمہارے اپنے جھگڑے ہیں عزیزو! ہمیں کیوں درمیاں رکھا ہوا ہے