اشکوں کے چراغ — Page 598
598 مفت کی بٹ رہی ہے جوتوں میں جام بولے نہ اب سبو بولے کٹ گئی آبرو سر اخبار اب نہ عزت نہ آبرو بولے سیکھ لے اگر مضطر بولنا سیکھ بھول کر بھی نہ پھر کبھو بولے
by Other Authors
598 مفت کی بٹ رہی ہے جوتوں میں جام بولے نہ اب سبو بولے کٹ گئی آبرو سر اخبار اب نہ عزت نہ آبرو بولے سیکھ لے اگر مضطر بولنا سیکھ بھول کر بھی نہ پھر کبھو بولے