اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 589 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 589

589 منزلوں کے ہیں چشمدید گواہ یہ جو پاؤں کے آبلے ہیں میاں ہم انہیں فاصلے نہیں کہتے یہ جو فرقت کے فاصلے ہیں میاں حملہ آور ہے آج دشمن جاں ہم بھی میدان میں کھڑے ہیں میاں منزلیں رو پاس آ گئیں چل کر و قدم بھی نہیں چلے ہیں میاں کر دیئے ہم نے سارے قتل معاف کوئی شکوے نہ اب گلے ہیں میاں سورج اور چاند ہی نہیں مضطر اب ستارے بھی بولتے ہیں میاں