اشکوں کے چراغ — Page 15
15 اٹھتے اٹھتے نقاب چہروں کے ڈھل گئے آفتاب چہروں کے ہم سے پوچھو عذاب چہروں کے ہم بھی تھے ہمرکاب چہروں کے ہم ہیں قاری صحیفہ رخ کے ہم ہیں اہل کتاب چہروں کے ہم نے دیکھے ہیں جاگتی آنکھوں خواب در خواب خواب چہروں کے ذہن کے پار تک ہیں پھیلے ہوئے سلسلے بےحساب چہروں کے گئے لقمہ نہنگ نظر کیسے کیسے گلاب چہروں کے شیخ پکڑے گئے سر بازار منتظر تھے جناب چہروں کے