اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 545 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 545

545 گھڑی دو گھڑی تو بھی رولے میاں! کہیں بجھ نہ جائیں یہ شعلے میاں! وہ کُھل کھیلنے کا زمانہ گیا یہ دن مشکلوں کے ہیں بھولے میاں! یہ فرصت بھی شاید نہ پھر مل سکے جو کھونا ہے جلدی سے کھولے میاں! حنا رنگ ہو جائیں گی انگلیاں رقعہ لہو میں ڈبو کے میاں! کوئی تو بتائے یہ قصہ ہے کیا سردار کوئی تو بولے میاں! مجھے کھینچ لینے دے زنجیر عدل تو کپڑے لہو میں بھگو لے میاں! اگر ہو سکے تو ہمیں بھی سنا جو تُو نے کہے رات ڈھولے میاں! یہ دامن پہ جو خون کے داغ ہیں اگر دھل سکیں ان کو دھو لے میاں! کہاں گم تھے مضطر، کدھر دھیان تھا بڑی دیر کے بعد بولے میاں!