اشکوں کے چراغ — Page 538
538 رات پھر آئی امتحاں کی طرح بن بُلائے بلائے جاں کی طرح آرزوئیں کھڑی ہیں راہوں میں دم بخود گردِ کارواں کی طرح کس کی خوشبو قفس میں پھیل گئی کون گزرا ہے گلستاں کی طرح گھورتی ہیں روش روش آنکھیں نقش پائے گزشتگاں کی طرح اُن کو دیکھا تو دیکھتے ہی رہے لٹ گیا دل بھی نقدِ جاں کی طرح ہم کسی کو برا نہیں کہتے اپنے یارانِ مہرباں کی طرح ہم اشاروں میں بات کرتے ہیں ہم نے ڈالی نئی زباں کی طرح اشک بر سے تو اس قدر برسے دھل گئے دل بھی آسماں کی طرح عمر بھر ہم رہا کیسے مضطر اپنے گھر میں بھی میہماں کی طرح