اشکوں کے چراغ — Page 537
537 خود سے مل کر ہوئے اداس بہت خود سے ملنے کی بھی تھی پیاس بہت ملنے اس کی ہر ایک سے لڑائی ہے دلِ ناداں ہے ناشناس بہت اس کو برگ حیا عنایت کر ابنِ آدم ہے بے لباس بہت تیرے لطف و کرم کے قلزم سے مجھ کو ہیں ایک دو گلاس بہت اوڑھ لیں گے ترے ستم کی ردا ہم کو اتنا بھی ہے لباس بہت تجھ کو چاہوں تو کس طرح چاہوں میں اکیلا ہوں اور حواس بہت میں بھی شاید کہیں نظر آ جاؤں اس ملاقات کی ہے اس بہت داستاں جولکھی ہے یاروں نے مت سنا اس کے اقتباس بہت کبھی ان سے بھی مل صحیفوں میں تیرے اجداد ہیں اداس بہت اب یہیں مستقل رہائش ہے دل کی آب و ہوا ہے راس بہت وہ برا مان جائیں گے مضطر! مت کرو ان سے التماس بہت