اشکوں کے چراغ — Page 529
529 صدمہ رنگ سے جنگل جاگا دل میں پھر درد سا ہونے لاگا کوئی ساتھی ہے نہ کوئی محرم پار پردیس کو اُڑ جا کا گا پھر وہی شام غریباں آئی پھر سر چشم ستارہ جاگا پھر ہوئی دل کی حکومت قائم عشق حاضر ہوا بھاگا بھاگا پھر کوئی کھوئی ہوئی یاد آئی شہر مسحور میں کوئی جاگا پھر سر بزم نگاراں مضطر ! دل کا دامن ہوا تا گا تا گا