اشکوں کے چراغ — Page 526
526 بات کرتے زبان ہے حرف مطلب کا احتمال کہاں آتنه آرزو کا ٹوٹ گیا خواہش دید کی مجال کہاں اب نہ ہم وہ ہیں اور نہ تم وہ ہو اب وہ پہلے سے ماہ و سال کہاں ایک ہی خواب، ایک ہی تھا خیال اب وہ خواب اور وہ خیال کہاں کہیں غالب تھا اور کہیں تھا میر اب وہ پہلے با کمال کہاں عشق تو معتدل نہیں ہوتا قلب مضطر میں اعتدال کہاں