اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 524 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 524

524 نذر غالب محفل کا دل اداس ہے، ساقی خموش ہے ایسے میں کس کو پینے پلانے کا ہوش ہے نرگس کی آنکھ بیچتی ہے آرزو کے پھول یہ خود فروش بھی بڑی لذت فروش ہے بے ادب نے دست تمنا کیا دراز بزم طلب میں غلغلہ پوش پوش ہے جوشِ طلب سے سینہ گل میں لگی ہے آگ کلچھیں سمجھ رہا ہے چمن سرخ پوش ہے آب حیات، شبنم و گل سے لدی ہوئی ہر شاخ سے بجام ہے، مینا بدوش ہے یہ میرے بس کی بات ہے نہ تیرے بس کی بات میں گر خطا شعار ہوں، تو عیب پوش ہے اپنے وطن میں لڑتا جھگڑتا تھا رات دن مضطر دیارِ غیر میں کتنا خموش ہے