اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 502 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 502

502 نہ جانے پھول کا انجام کیا ہو گا کہ اس کا جرم ہے شبنم نگلنے کا غنیمت ہے ابھی رستے میں کانٹے ہیں ابھی موسم ہے ننگے پاؤں چلنے کا میں اپنے آنسوؤں کو پی بھی سکتا ہوں مجھے آتا ہے فن پتھر نگلنے کا میں اپنی ذات میں محصور ہوں مضطر ! کوئی رستہ نہیں باہر نکلنے کا