اشکوں کے چراغ — Page 480
480 اس سفر کا کبھی انجام نہ ہونے پائے ساتھ سورج کے چلو، شام نہ ہونے پائے نہ سہی دوست مگر دشمن جاں ہے اپنا قاتل شہر ہے، بدنام نہ ہونے پائے سر قلم لفظ کا کرنے تو چلے ہو لیکن قتل ناحق ہے، سر عام نہ ہونے پائے کیا کرتے ہو تنقید برائے تنقید کام یہ ہے کہ کوئی کام نہ ہونے پائے