اشکوں کے چراغ — Page 464
464 شیشے نہیں ٹوٹے ہیں کہ پتھر نہیں بولا اس پر بھی یہ شکوہ ہے کہ منظر نہیں بولا دشنام کی بارش بھی ہوئی سنگ بھی برسے واللہ کہ وہ صبر کا پیکر نہیں بولا مضطر کو خوشی ہے کہ کئی مفت میں گردن گردن کو شکایت ہے کہ خنجر نہیں بولا شبنم میں بھگویا، کبھی اشکوں سے نکھارا موسم سے مگر پھر بھی گل تر نہیں بولا رہ جاتا بھرم کچھ تو مرے کچے مکاں کا سیلاب ہی بستی کو نگل کر نہیں بولا ہونے کو در لفظ پہ دستک تو ہوئی تھی دیوار کے لب بند رہے، در نہیں بولا کچھ ایسی مٹی رسم و ره خارا تراشی پتھر کو تراشا بھی تو پتھر نہیں بولا برپا تو ہوئی بزم سخن شہر سخن میں افسوس سخن ور سے سخن ور نہیں بولا کیا جانیے کیا صدمہ ہوا ہے اسے مضطر ! امسال بھی ساحل سے سمندر نہیں بولا