اشکوں کے چراغ — Page 450
450 چاندنی رات کو پھرنے دیا جائے تنہا چاند کے دودھ میں پانی نہ ملایا جائے چین سے سونے دیا جائے کتابوں میں مجھے مجھ گئے وقت کو واپس نہ بلایا جائے اب تو اپنے بھی یہاں نام پتا پوچھتے ہیں گوئے الزام میں اپنا نہ پرایا جائے اس کو سمجھانے کی کوشش تو میں کر لوں مضطر ! دل ناداں کو مرے سامنے لایا جائے