اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 435 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 435

435 حسن نظر سے جب بھی ہوا حسن کا ملاپ لو دے اُٹھی ہے کاغذی تصویر اپنے آپ گم ہو نہ جائے تو کہیں اپنی تلاش میں اے خودشناس! روح کی گہرائیاں نہ ماپ ناداں ! بدن سمیٹ لے صحرا کو بھاگ چل جلنے کا خوف ہے تو نہ چہروں کی آگ تاپ مدت ہوئی کہ ہم تری محفل سے جا چکے اے بے لحاظ ! یہ خبر اخبار میں نہ چھاپ اس راگ میں مزہ ہے نہ رونق، نہ روشنی فن کا ہے احترام تو یہ راگ مت الاپ چھپتا پھرے ہے اپنی خطاؤں کی اوٹ میں بیٹے کے ڈھنگ دیکھ کے شرما گیا ہے باپ روز حساب دامین رحمت میں چھپ گئیں ان کی تمام لغزشیں، میرے تمام پاپ