اشکوں کے چراغ — Page 434
434 یہ ساری زمیں میرے رب کی زمیں ہے تم بے زمینے، نہ ہم بے زمینے وہ چہرہ نہیں چاند ہے چودھویں کا اُسے بھی کبھی دیکھ اے بے یقینے ! فرقت کی راتیں ہیں آباد راتیں مہینے یہی وصل کے ہیں مہینے میں جاناں کی خدمت میں کیا لے کے جاؤں یہ جسم اور جاں تو دیے ہیں اسی نے ہمی مستحق تھے ملامت کے مضطر! محبت کا دعوی کیا تھا ہمی نے