اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 433 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 433

433 بس اک اشک سے دھل گئے سارے سینے گلے ہیں نہ شکوے ، کدورت نہ کہنے میں کس کس کا لوں نام اس سلسلے میں یہ احساں تو مل کر کیا تھا سبھی نے پلٹ کر پڑی منہ پہ جا کر اسی کے دعا کی تھی ہم پر جو اک مولوی نے اسے کام آئی نہ طاقت، نہ کثرت مری لاج رکھ لی مری بے کسی نے کبھی تو گرے گی یہ دیوار فرقت کبھی ہم بھی جائیں گے مکے مدینے اسے زعم میری زباں بند کر دی مجھے آ گئے گفتگو کے قرینے جے فخر تھا اپنے زور بیاں پر اسے مار ڈالا مری خامشی نے