اشکوں کے چراغ — Page 432
432 سر مقتل وفا کے حوصلے بھی محبت کی سزا بھی ہیں، صلے بھی شکایت بھی کرے،شکوے گلے بھی مگر وہ سامنے آ کر ملے بھی زبانوں پر ہیں خاموشی کے پہرے در جاں پر صدا کے سلسلے بھی اگر یہ فاصلے ہیں بندگی کے ہمیں منظور ہیں یہ فاصلے بھی زمانہ مندمل کر دے گا ان کو سلے ہوں زخم یا ہوں ان سلے بھی کسے فرصت تھی رک کر دیکھنے کی یہ غنچے مسکرائے بھی، کھلے بھی ضروری تو نہیں اس طرح ملنا وہ مل سکتا ہے ہم سے بن ملے بھی اُٹھا کر پھینک تو دوں اس کو مضطر ! مگر یہ ہجر کا پتھر ہلے بھی؟