اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 429 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 429

429 آنکھ کے آسیب جب تک جا نہ لیں خوں بہا تصویر کا لیں یا نہ لیں چاند کو ڈر ہے کہ اس آشوب میں آہٹیں آبادیوں کو کھا نہ لیں پوچھتی ہے مجھ سے کم ظرفی مری اس گل خوبی سے کیا لیں، کیا نہ لیں ہر کوئی شامل تھا قتل عام میں ذمہ تن تنہا نہ لیں آپ یہ تمھارے ساتھ ہیں جیسے بھی ہیں ان اسیروں سے مگر وعدہ نہ 3335 جس کے مالک بھی بکاؤ مال ہوں آپ اس دُکان سے سودا نہ لیں دور ہے روح کہتی ہے کہ منزل ہے ذرا سستا نہ لیں؟ جسم کہتا اس کی خاطر اس دھوئیں اور دھند میں کوئی بے آواز ٹھوکر کھا واہ مضطر! تم بھی کہتے ہو کہ پھول قتل ہو جائیں مگر بدلہ نہ لیں نہ لیں