اشکوں کے چراغ — Page 417
417 ساز آواز میں ڈھل جاتا ہے پھول بن جاتا ہے، پھل جاتا ہے کتنے احساس کے انگاروں کو وقت کا سانپ نگل جاتا ہے چوم لیتا ہے جو پتھر اس کو موم کی طرح پگھل جاتا ہے اشک یوں چہرہ چھپا لیتے ہیں۔۔جیسے اک حادثہ ٹل جاتا ہے چور دروازے سے پھر سے گھر کا سایہ جانب دشت نکل جاتا ہے دل میں تصویریں ہی تصویریں ہیں اور دل ہے کہ بہل جاتا ہے عشق ہو جائے تو حیران نہ ہو یہ وہ جادو ہے جو چل جاتا ہے