اشکوں کے چراغ — Page 416
416 ہمیں ستایا گیا ہے اگر تو اس کے لیے ستم چشیدہ کہو، ہم ستم رسیدہ نہیں تو دست ناز سے ان کے دلوں پہ دستک دے فضا اگرچه مکدر ہے دل کبیدہ نہیں کسی کے بت کو بھی ہم تو برا نہیں کہتے زباں دراز نہیں ہم دین دریدہ نہیں میں کون ہوں جو کروں دعوی ثنا خوانی غزل کہی ہے تری شان میں، قصیدہ نہیں بغیر اذن کے غم بھی نہ کھائے گا مضطر! ہزار بھوکا سہی وہ مگر ندیدہ نہیں