اشکوں کے چراغ — Page 408
408 جا چکا ہے تیرا گاؤں شہر کی آغوش میں اور تُو بیٹھا ہے اب تک گھر کے اندر گاؤں میں میں اگر ہمسر نہیں ہوں تیرا ہمسایہ تو ہوں میرا گھر بھی ہے ترے گھر کے برابر گاؤں میں آئنوں کے ٹوٹنے کا اب کوئی خطرہ نہیں آئنے سب شہر میں ہیں اور پتھر گاؤں میں ایک ہی ریلے میں مضطر ! بہ گئے ان کے محل اب بھی ہے زندہ سلامت میرا چھپر گاؤں میں