اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 405 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 405

405 گیا راہرو رستے میں بیٹھا رہ گیا ڈھے گئی دیوار سایہ رہ مر کے بھی یہ شخص زندہ رہ گیا عشق کا بیمار اچھا رہ گیا چھپ گئی منزل نظر کی اوٹ میں راستہ کروٹ بدلتا رہ گیا لاکھ برگ شرم سے ڈھانپا بدن ابن آدم پھر بھی نگا رہ گیا میں شہید عشق ہوں، میرے لیے ایک ہی جینے کا رستہ رہ گیا رات آدھی رات کو قطبین پر چھپ گیا سورج ، اجالا رہ گیا لوگ تصویریں بنا کر لے گئے میں لکیروں سے جھگڑتا رہ گیا ہوتے ہوتے پیٹر خالی ہو گئے ایک پانی کا پرندہ رہ گیا آئنوں سے بات کرنے کے لیے آئنہ بردار تنہا رہ روشنی کا ذکر کرنے کے لیے ایک میں آنکھوں کا اندھا رہ گیا گیا