اشکوں کے چراغ — Page 383
383 دل نادان پہ حیران نہ مضطر ! ہونا اس کی فطرت میں ہے مومن کبھی کافر ہونا ہجر کی رات بھی آرام کا خوگر ہونا باور آیا ہمیں مجبور کا پتھر ہونا شہر بیدار کی راتوں کا سہارا لے کر جاگنے والے! کبھی گھر سے نہ بےگھر ہونا موم کی طرح پگھل جاتے ہیں پاگل پتھر وصل کے عہد میں ممکن نہیں آذر ہونا تیری محفل سے ترے غم کے خزانے لے کر ہم چلے جائیں تو ناراض نہ ہم پر ہونا اب نہ الفاظ کے کثر دم ہیں نہ آواز کے سانپ اب کسی جھوٹ کو آئے گا نہ اثر در ہونا عمر بھر رہتے ہیں وہ لوگ مقدر بن کر جن کی قسمت میں ہو خاک رہ دلبر ہونا