اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 378 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 378

378 وہ اپنے حال پہ ہنستا تو ہو گا اسے فرقت کا دن ڈستا تو ہو گا کوئی تو موڑ آئے گا سفر میں کہیں رستے میں چورستہ تو ہو گا بجھے گی پیاس پھر دشت نجف کی لہو انسان کا سستا تو ہو گا اگر آباد ہے کون و مکاں میں وہ جسم و جاں میں بھی بستا تو ہوگا اسے معلوم ہے ساری حقیقت وہ ہنسنے والوں پہ ہنستا تو ہو گا مناؤ خیر اب منزل کی مضطر! اگر منزل رہی رستہ تو ہو گا (جون، ۱۹۸۵ء)