اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 379 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 379

379 تیرے سوا تو کوئی مرا راہبر نہ تھا یہ اور بات ہے کہ ترا ہم سفر نہ تھا سب بے قرار تھے ترے دیدار کے لیے وہ کون سا حسین تھا جو بام پر نہ تھا پر افتاد آ پڑی تھی کچھ ایسی مریض لب پر دعا تھی پر دعا تھی اور دعا میں اثر نہ تھا مشکل کے بعد مشکلیں آتی چلی گئیں یہ امتحاں کا دور بہت مختصر تھا تو نے کہا تو آنسوؤں کو بولنا پڑا ورنہ کوئی صدا نہ تھی جس میں بھنور نہ تھا صبح ازل تھی لمس کی لذت پہ خندہ زن جنت میں دور دور کوئی بھی شجر نہ تھا اس کو پتا تھا سارے سیاہ و سفید کا بے نور تو ضرور تھا وہ بے خبر نہ تھا