اشکوں کے چراغ — Page 362
362 جسے آپ حد نظر کہہ رہے ہیں نظر ہے، کنارہ نہیں فریب ہے نہیں بولتے ہم، نہیں مسکراتے اگر آپ کو یہ گوارا نہیں ہے ہے یہ سب سرز میں ”سر“ کے اجداد کی۔یہ ٹکڑا زمیں کا ہمارا نہیں ہے نہ اتنا حکومت پہ اترائیے گا حکومت کسی کا اجارہ نہیں ہے میں اپنے خدا کی ثنا کر رہا ہوں یہ اشک ثنا وہ سجدہ نہیں، اور ہی کوئی شے ہے جے آنسوؤں نے سنوارا نہیں ہے ہے، ستارہ نہیں ہے اشاروں ہی میں گفتگو کیجیے گا ہے اگر بات کرنے کا یارا نہیں ہمیں ہر کسی سے محبت ہے مضطر! کسی سے بھی نفرت گوارا نہیں ہے