اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 334 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 334

334 یہ کرم ہو گیا یا ستم ہو گیا دفعہ ہو گیا، ایک دم ہو گیا گھر سے نکلا تھا جو روکنے کے لیے ساتھ چلنے لگا ، ہم قدم ہو گیا بار کچھ تو امانت کا ہلکا ہوا ہاتھ کاٹے گئے، سر قلم ہو گیا بر سر دار ہم بھی بلائے گئے فاصلہ باہمی اور کم ہو گیا بات کی تھی سرِ راہ اک سرسری ذکر اس کا عدم تا عدم ہو گیا یہ گلی کس کی ہے، سنگ در کس کا ہے کیوں جبیں جھک گئی ، سر بھی خم ہو گیا بھی اچھا ہوا منصفو! ثالثو! خونِ ناحق سے کچھ شور کم ہو گیا پھر لہو رنگ ہے سرزمین وفا پھر یہ خطہ بھی رشک ارم ہو گیا تم سمجھتے ہو مضطر! اُتر جائے گا؟ یہ جنوں تم کو جو ایک دم ہو گیا