اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xxxviii of 679

اشکوں کے چراغ — Page xxxviii

۳۵ وہ اک حسین تھا اس عہد کے حسینوں میں اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا تم اپنے آپ سے ملتے اگر اکیلے تھے کڑا تھا وقت تو ہنس کر گزار دینا تھا وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے کہ پھولنا تھا اسے، برگ وبار دینا تھا اٹھائے پھرتے ہو مضطر اجاڑ گلیوں میں یہ سر کا بوجھ تو سر سے اتار دینا تھا ایک بہت اعلیٰ پائے کی غزل میں یہ چند اشعار جو اوپر لکھے ہیں بہت زیادہ اچھے لگے۔ہاں ایک دو جگہ دوسری قراءت کی گنجائش بھی پائی۔حسینوں کو تو سبھی کا فر قرار دیتے ہیں، ورنہ اکثر۔اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا میں ایک اپنی شان اور قوت ہے اور بڑا چست مصرعہ ہے مگر اقتضائے حال کے مطابق نہیں۔”اسے تو لاکھوں نے کافر قرار دینا تھا اپنی ذات میں ویسا بانکا مصرعہ نہیں مگر اقتضائے حال کے زیادہ مطابق ہے بلکہ اسے کروڑوں نے کا فرقرار دینا تھا۔“ مقطع بھی بہت بلند ہے لیکن اگر میری بات کو سخن گسترانہ خیال نہ فرما ئیں تو اس کے دوسرے مصرعہ کو میں کچھ اس طرح پڑھ لیا کروں۔یہ سر تھا بوجھ، تو یہ بوجھ اتار دینا تھا آپ کی اس غزل کا مزاج بہت انوکھا اور پیارا ہے۔وہ دن یاد آ گئے جب لاھول کوہ پیمائی کے لیے آپ کے ساتھ گئے تھے۔جس طرح آپ ان دنوں ہمیں ڈانٹا کرتے