اشکوں کے چراغ — Page 331
331 واویلا کرتا ہوا راون آیا ہے سیتا کو لینے کیوں کچھمن آیا ہے ارجن کو بلواؤ کرو کھشیر میں گیتا کے اپدیش کو بھگون آیا ہے دروپدیوں کی عزت لوٹ کے جوئے میں منہ سے واپس دریودھن آیا ہے جنس وفا منگوائی تھی مجبوروں نے شہر سے واپس خالی برتن آیا ہے آنکھیں فرش کرو، چہرے دہلیز کرو ساجن سے ملنے کو ساجن آیا ہے چہرے جھانک رہے ہیں روشن دانوں سے لگتا ہے کوئی روزن روزن آیا ہے موسم بھی مدہوش سے فرط لذت سے ہے دھرتی پر بھی ٹوٹ کے جو بن آیا ہے