اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 330 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 330

330 فرقت کے فاصلوں میں اس عہد کی ہے عادت وہ دن کو چھین لینا جو رات لے کے آنا جنس وفا کو لے کر آئیں جب آنے والے لازم نہیں ہے ان پر کچھ ساتھ لے کے آنا پہچاننے میں مضطر! دقت نہ ہو کسی کو تاریخ کے پرانے صفحات لے کے آنا ☆ خدا جانے وہ اب کس حال میں ہیں انھیں دیکھے ہوئے عرصہ ہوتا ہے نہیں ہے بے خبر اتنا بھی مضطر اسے معلوم ہے جو ہو رہا ہے