اشکوں کے چراغ — Page 317
317 گھر سے نکلے تھے بے ارادہ بھی بے خبر بھی تھے لوگ سادہ بھی نے اوڑھا تھا جو لبادہ بھی لبادہ تھا رہن بادہ بھی وہ یاد تو ہو گا، ہم فقیروں ایک تم نے کیا تھا وعدہ بھی تم نے تقسیم کر کے دیکھ لیا اپنے آدھا آدھا بھی جسم کو ایک ہی رنگ میں ہوئے رنگیں شاہ بانو بھی، شاہ زادہ بھی ایک تھیلی کے چٹے بٹے تھے پوتے، پڑپوتے اور دادا بھی بات دل کی زباں یہ آ نہ سکی لاکھ اس کا کیا ارادہ بھی