اشکوں کے چراغ — Page 304
304 کون سر غار حرا بول رہا ہے لگتا ہے کہ خود آپ خدا بول رہا ہے ہو جائے نہ صحرا سے کہیں اس کی لڑائی صحرا میں اکیلا جو کھڑا بول رہا ہے واللہ کہ یہ میم فقط میم نہیں ہے اس میم کے پردے میں خدا بول رہا ہے آواز تو آئی ہے انا الحق کی کہیں سے کوئی تو سر کرب و بلا بول رہا ہے کملی کے چھپانے سے کبھی چھپ نہ سکے گا رُخ پر جو ترے رنگ حیا بول رہا ہے ہے فرش سے تا عرش چکا چوند کا عالم کس شوخ کا نقش کف پا بول رہا ہے کچھ منہ سے تو کہنے کی ضرورت نہیں اے دل! آنسو بھی تو ہنگام دُعا بول رہا ہے تاثیر نے حل کر دیے آواز کے عقدے جو لفظ کبھی بولا نہ تھا بول رہا ہے مضطر کو بھی لے جانا سر کوئے ملامت یہ شوخ بھی امسال بڑا بول رہا ہے (قدیم)